پاکستان کی قدر اور خدمت کیجئے _ حماد صافی

ہماری قوم کی ایک بہت مشہور اور پرانی عادت ہے کہ ہم اپنے قیمتی اثاثے کھو کر بعد میں احساس ندامت کا اظہارکرتے ہیں۔۔وطن عزیزپاکستان کی پیدائش کے ایک سال بعدہی ہماری کم نصیبی کا یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب قائد اعظم ؒجیسی ہستی اور اثاثہ ہم سے چھن گیااور پھر اُس کے بعد لیاقت علی خان کو لیکرایک پوری داستان ہے جو کہ آج تک جاری و ساری ہے۔تاریخ شائد ہے کہ ہماری یہ پاک مٹی ہیروز پیدا کرنے کے حوالے سے بڑی زرخیر رہی ہے ایک سے بڑھ کر ایک بڑا نام ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے مگر بد قسمتی سے ان ہیروز کی اکثریت کو نظر لگنے کی ہماری دردناک تاریخ بھی موجود ہے۔ پچھلے ستر سالوں میں ہمیں اگر اس مٹی پر قائد و اقبالؒ کے پائے کی ایک بھی شخصیت مل جاتی تو آج پاکستان نجانے کس مقام پر ہوتا۔دوسری طرف پڑوس میں ہندوستان نے ہمیشہ ہیروز بنانے پر توجہ دی۔ مصنوعی ہی صحیح مگر آج ہندوستان کو دنیا صرف ان کے مصنوعی ہیروز کی وجہ سے جانتی ہے۔ ہندوستان کا جغرافیائی رقبہ اور آبادی پاکستان سے کئی گنا ذیادہ ہونے کے باوجود وہاں ہمیشہ قدرتی صلاحیتیوں اور ٹیلنٹ کا فقدان رہامگر اس کمی کے باوجود انہوں نے ہر قسم کی انڈسٹریوں پر کام کرکے اپنے نوجوانوں کو پنپنے کے لیے بہترین ماحول میسر کیا۔اگر آپ ہندوستان کی صرف فلم انڈسٹری کو ہی دیکھ لیں تو آپ کو اپنے ہاں یہاں ہر گلی میں ایسا بچہ مل جائے گا جوکہ شاہ رخ خان اور سلمان خان کی طرح بننا چاہتا ہوگا مگر ان بچوں کو یہ کون بتائیگا کہ ان کے اصلی ہیروز تو قائد و اقبالؒ تھے جن کے کام و کردار کی مثالیں مغرب آج تک دیتی چلی آرہی ہیں۔ اگر آپ ہندوستان کی اُس وقت کی فلموں کو ان کے آج کی فلموں سے موازنہ کریں تو آپ کویہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ ان کے آج کے فلمی ہیروزجن کو یہ بھگوان تک کا درجہ دیتے ہیں کسی دور میں فٹ پاتھوں پر بے روزگار گھوما کرتے تھے۔مگر پڑوس نے ان کالے کلوٹے بے روزگارلڑکوں کوپہلے جمع کیااور پھر ان پر انوسٹمنٹ کرکے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جن سے لاکھوں بے روزگار وں کوروزگار کے مواقع ملے۔آج ان کی صرف اس ایک انڈسٹری نے ہماری ناک میں دم کرکے رکھا ہوا ہے۔سب سے ذیادہ اگر ہمیں کسی نے دنیا میں بدنام کیا ہے تو وہ بھی انکی یہی انڈسٹری ہے جس نے آج آپکی پوری نسل کی سوچ کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے نہ ان بچوں کو اپنی تاریخ کا علم ہے اور نہ یہ تربیت یافتہ ہے ، لہٰذا یہ بچے معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں . ۔ہندوستان کیمرے کی طاقت اور اہمیت کو سمجھتاہے۔انہوں نے جہاں میڈیا انڈسٹری پر کام کرکے اپنی معیشت مضبوط کی وہاں جدید انٹرنیٹ سے وابستہ سوشل نیٹ ورک کی بڑی کمپنیوں فیس بک اور یوٹیوب سے معاہدے بھی کیے جن سے پھر فری لانسنگ کے شعبوں میں نوجوانوں کو ڈالر کمانے کے نئے مواقع فراہم ہوئے۔بدقسمتی سے ڈالر کمانے کی یہ سہولت ہمارے پاکستانی نوجوانوں کو میسر نہیں حلانکہ پاکستان اور ہندوستان ایک ہی خطے کے دو پڑوسی ممالک ہے لیکن عالمی دنیا کا ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ ہے . ہماری اس پاک دھرتی پر اگر کوئی ہیرا نکل آتا بھی ہے تو بجائے اُنکی قدر کے ہم اُلٹا اُنکے پاؤں کھینچ کرنشان عبرت بنا دیتے ہیں۔ہماری سرشت میں ہیرو کو زیروبنانے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ بحیشت مجموعی ہمارا یہ رویہ ہمیں آج کے اس تنزلی کا شکار کر چکا ہے۔آج ہی کی بات ہے جب ہم سینٹوریس مال سے گھر واپس جا رہے تھے تو سڑکوں پر کنٹینر لگے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی حملہ ہونے والا ہے اور اُس کے لیے تیاریاں زور وشور سے کی جارہی ہے۔
تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تووہاں لاتعداد لوگوں کو احتجاج کرتے دیکھا ۔ یہ آئے روز سیاسی احتجاج اور جلسے جلوس کس ملک میں ہوتے ہیں . ہمارے نوجوانوں کے پاس اتنا فضول وقت کہاں سے مل جاتا ہے . حیران کن بات یہ بھی ہے کہ یہ لوگ ان دھرنوں میں ہفتوں تک انہی جگہوں پر ثابت قدمی سے پڑے رہتے ہیں . یہ سب دیکھ کر مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پاکستان کو کسی کی نظر لگ گئی ہے