وزیر اعظم کا دورہ امریکا اور ہمارا رویہ _ حماد صافی

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے نئے وزیراعظم کا دورہ امریکہ پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے سود مند ثابت ہوا۔ امریکہ میں جہاں پاکستانی کمیونٹی نے سٹیڈیم میں پاکستان کے نئے وزیر اعظم کو سرپرائزکیا وہاں امریکہ نے بھی پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر ایک سو ساٹھ ڈگری کے زاویے سے یوٹرن لیکرہمارے ہی وزیر اعظم کو حیران و ششدرکر دیا۔ عمران خان صاحب اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی شائد مغرب کی ذہنیت ذیادہ اچھی طرح سمجھتے ہو لیکن امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جب امریکہ میں انتخابات کے بعد ڈونلڈٹرمپ صدر بن کر منظر عام پر آئے تو سب سے پہلے یہی ٹرمپ صاحب تھے جنہوں نے پاکستان کی لازاوال قربانیوں کو پس پشت ڈال کرخیرات دینے کا طعنہ دیا اورپوری قوم کوہتک کا نشانہ بنایا۔میں آج بھی اس گورے کے وہ الفاظ یاد کر تا ہوں تو اپنی قوم کی قسمت پر رونا آجاتا ہے۔اگر آج قائد یا اقبالؒ زندہ ہوتے تو اپنی قوم کی اس بے توقیری پر کبھی خاموش نہیں رہتے۔قومیں بھوکی رہ سکتی ہیں لیکن اپنی غیرت پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتی۔بدقسمتی سے یہ صرف پاکستان کا المیہ نہیں بلکہ اچھے خاصے مالامال عرب مسلم ممالک بھی اس قطار میں کھڑے ہیں۔اگر آپ کو یاد ہوتوگورے آقا کی یہ خفگی دیکھ کراُس وقت دوسرے عرب ممالک بھی پاکستان کو نو لفٹ کا سگنل دیا تھا۔پاکستان کوگرے سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لیے الگ ہراساں کیا جارہا تھا۔حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ ملک کے اندر پانی اور بجلی کے بحران نے پوری ریاستی مشینری کو اپنی ہی قوم سے چندہ لینے مجبور کر دیا۔یہاں تک کہ پاک فوج نے اپنی تنخواہیں کاٹ کرپوری قوم کو یہ اشارہ دیا کہ ملک اور خزانے کے حالات کس نہج پرپہنچائے جاچکے ہیں۔ غرض یہ کہ پاکستان اندورنی اور بیرونی بحرانوں کابُری طرح شکارتھا۔ بطور موٹیویشنل سپیکرجب بھی میں غور کرتا ہوں کہ آخر ہمارا پاکستان اس قدر بدترین حالات و واقعایات کا شکار کیونکر ہوا جبکہ ہمارے تمام تر چاق وچوبند ادارے اس مٹی سے وفا کرنے کا حلف اُٹھا چکے ہیں۔کیااس ملک کی غریب عوام کے خزانے پر شب خون مارنا اور ملکی معیشت کی گردن توڑ کر اس کی بقا کو خطرے میں ڈالنامعمولی جرم ہے۔اگر یہ معمولی جرم نہیں ہے تو ہماری ریاست اس قسم کے معاشی دہشت گردی کرنے والوں کو کیا سزا دے رہی ہیں۔کیا یہ چند لوگ اُن ہزاروں شہیدوں سے ذیادہ اہم ہے جو روزاس مٹی کی حفاظت کرتے ہوئے نامعلوم گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔دہشت گردی میں تو ایک شخص خودکش بن کر کچھ لوگوں کو مار سکتا ہے لیکن معاشی دہشت گردی وہ خوفناک عمل ہے جس سے پوری کی پوری قوم کی کمر توڑ کرمار دیا جاتا ہے۔آج ہماری قوم کی حالت زار کا اندازہ آپ اس چیز سے لگائیے کہ صرف امریکہ کے ایک معمولی دورے کو لیکرآسمان سر پہ اُٹھایا ہوا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ائرپورٹ پر باقاعدہ وزراکا جم غفیرہاتھوں میں ہار اور گلدستے لیکرقوم کو یہ احساس دلانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان کی وہاں امریکہ میں بڑی واہ واہ اورعزت ہوگئی ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اس پاکستان کا مزید وقت ضائع نہ کریں۔ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا رہنے کی بیماری لگ چکی ہے ہم نے امریکہ ہی کی وجہ سے اپنے ایک لاکھ سے زائد شہری اور جوان شہید کرائے اس کے باوجود ہم اس دورے کو لیکر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔وزیر اعظم بننے سے پہلے خان صاحب ہمیشہ پسینے میں شرابور رہتے دکھائے دیتے تھے اورملک کے طول و عرض میں دھرنے اور جلسے کر رہے تھے جہاں عام آدمی کی طاقت ان کے ساتھ تھی اور انہی غریب لوگوں کی بدولت وہ آج وزیر اعظم بھی بنے ہے۔خان صاحب کو واپس اپنے قومی کردار پر آنا پڑے گا۔عام آدمی نہیں جانتا کہ پالیسی کس بلا کا نام ہے اور مفادات کا کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے۔وہ تو بس پسینے میں شرابور ایک عدد روٹی کی خاطر بھاگ بھاگ رہا ہے۔اگر صرف عام آدمی کے لیے آٹا گھی اور چینی ہی سستہ کر دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ عجیب وغریب قوم اگلے تیس سال تک انہی کو حکمرانی کی کرسی پہ بٹھا کے رکھے گی۔پھر چاہے آپ امریکہ یا کوہ قاف کا دورہ ہی کیوں نہ کر لیں انکو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔یہ پیٹ کا معاملہ بڑا خوفناک ہوتا ہے اورقوم کی اسی حالت کو دیکھ کر ہمارے سیاسی نبض شناس طاقت ور حلقے اس ملک کی غریب اکثریت کو کبھی بریانی کی پلیٹوں پر تو کبھی پیسوں سے ان کی رائے خرید کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں حد سے ذیاد ہ تعلیم و تربیت پر توجہ دینے ہوگی کیونکہ یہی وہ پُر اثرطریقہ کار ہوگا جس کی بنیاد پر ہم پوری قوم کوان مسائل کی دلدل سے نکال سکتے ہیں۔
Ap my bilkul sahi kaha,ka Pakistan ki khetmt kary