یوم شہدا پر بونیر پولیس لائن ڈگر کا شہدا کو خراج عقیدت

یہ میرے لئے انتہائی فخر اور سعادت کی بات ہے کہ الله تعالیٰ نے اس عمر میں میرے ہاتھوں سے یادگار شہدا پر ملک و ملت کے ان عظیم ہستیوں کے لئے پھول بھی چڑھا دیے اور فاتحہ خوانی بھی کرائی . یقینا بہت کم لوگوں کے نصیب میں ایسے بابرکت مواقع اتے ہونگے .شہدا پولیس ہمارے لئے قابل عزت و احترام ہیں جنہوں نے اپنی لازوال قربانیوں سے ہمیشہ عوام کے جان ومال کے تخفظ کو یقینی بنایا ۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی یوم شہدا پولیس کو پورے جذبے اور احترام کیساتھ منایا گیا . اس اہم دن کے موقع پر میں پولیس لائن بونیر پہنچا جہاں کی پوری انتظامیہ نے میرا والہانہ استقبال کرکے مجھے اپنی محبتوں کا مقروض کیا . اس دوران ہمارے ساتھ ایس ڈی پی او ڈگر محترم زاہد خان صاحب بھی موجود تھے جن کے ساتھ مل کر وہاں اپنے ہاتھوں سے پودا بھی لگایا . یوم شہدا کے حوالے سے میں ضلع بونیر کی پوری پولیس ڈیپارٹمنٹ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں اس مبارک دن کے موقع پر اپنے شہدا کو یاد کرکے ناصرف ان کے قبروں پر حاضری دی بلکہ انکے خاندانوں کی داد رسی کے ساتھ ساتھ ان میں تحائف بھی تقسیم کیے.

اس کے ساتھ ساتھ میں نے ضلع بونیر کے لئے نیا بنایا جانے والا ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کا بھی دورہ کیا جہاں کی انتظامیہ کو بہترین نظم و ضبط کے ساتھ پایا . یہاں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کا جدید سازو سامان کے ساتھ جذبہ تھا جو ہر دم اپنے لوگوں کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں . . یہاں پر یہ بات بتاتا چلوں کہ جس رفتار سے یہاں پر ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں اور جس طریقے سے تمام سرکاری ادارے متحرک ہیں تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگلے پانچ سے دس سال میں یہ علاقے تعمیر و ترقی اوراپنی خوبصورتی کے لحاظ سے ملک کے دوسرے تمام علاقوں کو پیچھے چھوڑ دینگے .

بونیر میں ان تمام سرگرمیوں کے دوران ہمارا ایک انٹرویو بونیر کے معروف کالم نویس محترم شبیر بونیری نے ریکارڈ کیا جہاں ہم نے ایک ساتھ ڈپٹی کمشنر صاحب کے آفس کا دورہ بھی کیا جہاں ڈپٹی کمشنر محترم محمّد خالد صاحب نے بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی اور محبت اور شفقت کے ساتھ رخصت کیا .

بونیر کے اے سی ار محترم سید حماد حیدر صاحب سے بھی تفصیلی بات چیت کا موقع ملا جس میں ہم نے تعلیم کی اہمیت کے اوپر بات چیت کی . اس کے بعد شبیر بونیری صاحب نے گھر پر کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا تھا جہاں ہم نے انکے والد محترم اور بچوں سے ملاقاتیں کیے .

غرض میں جب بھی بونیر اتا ہوں تو ساتھ ڈھیر ساری انمٹ یادیں سمیت کر چلا جاتا ہوں . آخر میں یہ اہم بات ضرور کہنا چاہونگا کہ جس کے لئے میں وہاں گیا تھا کہ پولیس ہماری جان و مال کی محافظ ہے انہوں اپنی قربانیوں سے ثابت کیا ہے کہ یہ لوگ ہمارے حقیقی محسن ہے جو اپنی جانوں پر کھیل کر ہمارے انے والے مستقبل کو محفوظ بنا رہے ہیں .
ایک باشعور قوم کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے . میں پورے ملاکنڈ اور ضلع بونیر کے باسیوں کی شفقت اور محبت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ مجھے ان خوبصورت پہاڑیوں کے بیچ اپنی سرسبز مٹی پر سرپرائز کیا .






