عہد وفا کا دن

تحریر محترم علیم شاہ خلجی
گلیاں اور بازار سبز ہلالی پرچموں سے سج دھج چکے ہیں۔بچے ہاتھوں میں پرچم لیے جابجا نظر آرہے ہیں۔دس روپے سے لیکر پانچ سو تک کے مختلف جھنڈے سٹیکرزاور بیجز بازار وں میں بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے آویزاں کی جاچکے ہیں۔کل شام تک یہ ساری ہلچل بھی اختتام کو پہنچ جائیگی اور بازاروں کی رونق بھی مدھم پڑجائے گی۔فٹ پاتھوں اور چوراہوں پرکہی نہ کہی آپ کوزمین سے کیچڑ میں لتڑے ہوئے سبز ہلالی پرچم بھی اُٹھانے کو مل جائینگے۔ایسا ہی کچھ ہر سال ہوتا آرہا ہے اور اسی تربیت کی بنیاد پرہماری نسلیں پروان چڑھ کر جوان ہوتی رہی ہیں۔آزادی کہنے میں تو بہت سہل لیکن معنی اور تشریح کے لحاظ سے اپنے اندر قوموں کی دکھ درد سے بھری لازوال قربانیاں سموئے ہوئی ہوتی ہے۔اسی ایک لفظ کی بنیادپرتاریخ میں قومیں کٹی مری اور دوبارہ زندہ ہوکرتشکیل پاتی رہی ہیں۔ہماری پاکستانی قوم کوآج تک اس چھوٹے سے لفظ کی حقیقی معنوں میں قدروقیمت اور اپنی خوش نصیبی کاپوری طرح احساس ہی نہیں ہوا۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک غریب آدمی کے ہاتھوں میں لعل دیا گیا ہو مگر اُسے اسکی قدروقیمت کا علم ہی نہ ہو۔یہی معاملہ بدقسمتی سے ہماری اس پاک مٹی پر بسنے والی قوم کے ساتھ بھی چل رہا ہے۔اس خطہ زمین کو وجود میں آئے ہوئے تقریبا73سال بیت چکے ہیں اس تمام عرصے میں ہم نے پاکستان کومختلف ادوارمیں نشیب و فراز سے گزرتے دیکھا۔طوفانوں،ہنگاموں اور قیامتوں کا سامناتو اس پاک مٹی نے ہر دور میں کیاجبکہ آذاد ہوکر بھی پابند سلاسل رہا۔ہمیں بچپن سے یہ باتیں سکھائی گئیں کہ چودہ اگست کو پاکستان آزاد ہوا،علامہ اقبالؒ ہمارے قومی شاعر اور قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی تھے۔یہ اسباق توہماری نسلوں کے شعور سے تحت شعورمیں نقش ہوگئیں لیکن اس دوران ہم سے فاش غلطی یہ سرزدہوئی کہ ہم نے اپنے بچوں کو لعل کی اصل قدروقیمت کا احساس ہی نہیں دلایا کہ کس قدر بیش بہا خزانہ ان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
آج آپ آزادی کے اس غیر معمولی دن کے حوالے سے کسی سے بھی سوال پوچھ لیں تو نااُمیداور مرجھائے ہوئے چہروں کے ساتھ جوابات سُننے کو مل جائینگے۔یعنی شعوری طور پرہم قبول توکرچکے ہیں کہ ہم کسی وجہ سے آج آذاد ہیں لیکن لاشعوری طور پر اس خاص وجہ کی اہمیت کا نہ تو ہمیں ادراک ہے اور نہ ہی اس میں پنہاں نظریات کے لیے دی جانے والی لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا احساس۔آج یہ بات آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے بچے اس مبارک دن کے موقعے پر اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کرنے کے بجائے کن افسوسناک طریقوں سے اپنی آذادی کا یہ دن مناتے ہیں۔ان کی اس دن کی مناسبت سے کی جانے والی سرگرمیوں کو دیکھ کر واقعی لگتا ہے کہ اب یہ بچے ہرقسم کی بندشوں کو توڑ کر مکمل آذاد ہوچکے ہیں۔ آدمی کے ساتھ فطری معاملہ ہے کہ جب تک وہ کسی چیز کی اصل حقیقت اور اہمیت سے اگاہ نہیں ہوگا تب اُن کے لیے لعل اور پتھر میں بھی فرق باقی نہیں رہے گا۔آج تک ہم نے اپنی نسل کو پاکستان کے روحانی وجود اور اس کے بننے کی غیر معمولی مقصد سے اگاہ ہی نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ اس دوران جو فصل پک کر سامنے آتی رہی ہیں وہ ہمیشہ جھوٹ،ملاوٹ اور کرپشن میں ملوث پائی گئی۔آئیں آج کے دن اپنے بچوں کو بتائیں کہ پاکستان کا مرتبہ و مقام کیا ہے۔ان بچوں کو بتائیں کہ وہ کس قدر لعل وگوہر کھو چکے ہیں اور دوبارہ ان خزانوں تک رسائی کیسے ممکن ہوسکتی ہیں۔جس دن ہمارے بچوں کو ان خزانوں تک پہنچنے کا راستہ مل گیا اُس دن کا سورج اس پاک مٹی پر حقیقی تبدیلی لیکر طلوع ہوجائے گا۔بچوں کو بٹھا کر بتائیں کہ پاکستان اس کائنات میں اللہ تعالی کی وہ غیرمعمولی نشانی اور معجزہ تھا جوکہ1947کودنیاکے نقشے پر ظاہر ہوا۔ان کو بتائیں کہ اس خطہ زمین کی پیدائش کے لیے اللہ تعالی نے ستائیسویں رمضان جمعہ کی مبارک ترین شب(غالب امکان لیلتہ القدر کی رات) کا انتخاب کیا تھا۔ان کو یہ بھی بتائیں کہ ایسی شاندار تقدیر آج تک کرہ ارض پر موجود کسی بھی خطے پر بسنے والے لوگوں کے نصیب میں نہیں آئی۔انکو یاد دلائیں کہ جب کسی وجود کی پیدائش کا مرحلہ آتا ہے تواُس کے لیے نام کا انتخاب کیا جاتا ہے اوراس پاک مٹی کے لیے اللہ تعالی نے کائنات کی تاریخ کاسب سے خوبصورت ترین نام پاکستان کا انتخاب کیا جس کا مطلب ہی مدینہ ثانی اور کلمہ طیبہ نکلتا ہے۔انہیں اس بات سے جھنجھوڑ کر حیران کر دیجیے کہ اس پاکستان پر سایہ خدائے ذلجلال ہے جو بھی اس پاک مٹی کی خاطر خلوص دل سے کام کریگا وہ پھر کم عمری میں بھی حمادصافی کی طرح اقوام عالم میں وطن کا بڑا نام روشن کریگا۔یہ وہ راز کی باتیں ہیں جس کی بنیاد پر حماد صافی ہمیشہ آپ سب بچوں کو مخاطب ہوکر کہتارہاہے کہ یہ پاکستان دیکھتا ہے،سُنتا ہے اور بولتاہے۔پاکستان کی انکھیں بن کر علم کی تلاش میں نکل جائیں خزانے نہ ملیں تو کہنا۔پاکستان کی زبان بن کر توبولیں زبان سے لعل و موتی نہ ٹپکے تو کہنا۔اپنے اپنے نصیب کی بات ہیں۔ اس دور میں خوش نصیب لوگ وہ ہونگے جو اللہ تعالی اور اُس کے پیارے نبیﷺ کی اس خوبصورت ترین نشانی اور تحفے کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز رکھینگے۔یہی تووہ اسباق ہیں جوہم نے اپنے آج کے بچوں کو یاد دلانے ہیں۔

100% LikesVS
0% Dislikes

عہد وفا کا دن” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں